ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندو جذبات بھڑکاکر2019 جیتنے کے فراق میں ہیں گری راج سنگھ:جیتن رام مانجھی

ہندو جذبات بھڑکاکر2019 جیتنے کے فراق میں ہیں گری راج سنگھ:جیتن رام مانجھی

Tue, 23 Oct 2018 01:19:08    S.O. News Service

نئی دہلی22اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بی جے پی کے رہنما اور مرکزی وزیر مملکت گری راج سنگھ کے متنازعہ بیان پر اتحادی جماعتیں اور اپوزیشن دونوں نے نشانہ لگایا ہے۔اس دوران این ڈی اے سے الگ ہو کر آر جے ڈی کے ساتھ مہا گٹھ بندھن میں شامل ہوئے ہندوستانی عوام مورچہ سیکولر کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی جتن رام مانجھی نے بھی گری راج سنگھ پر نشانہ لگایا ہے۔

جتن رام مانجھی نے الزام لگایا کہ گری راج سنگھ ہندو سماج کے جذبات کو مشتعل کرکے 2019 کا لوک سبھا الیکشن جیتنے کی فراق میں لگے ہوئے ہیں۔ گری راج سنگھ نے رام مندر کے مسئلہ پر مسلمانوں کو دھمکی بھرے لہجے میں کہا کہ جو لوگ رام مندر کی مخالفت کر رہے ہیں وہ حمایت میں آ جائیں ورنہ 100 کروڑ ہندو ناراض ہو جائیں گے۔ اگر یہ نفرت شعلوں میں بدل گئی تو سوچیں پھر کیا ہوگا؟ اس دوران انہوں نے کہا کہ میں سناتن دھرم کے لئے بی جے پی، وزیر کے عہدے اور ایم پی عہدہ چھوڑ سکتا ہوں۔اتنا ہی نہیں گری راج سنگھ نے اپنے ایک دوسرے بیان میں بہار کے اکبر پور کا نام تبدیل کو لے کر کہا کہ خلجی نے مبینہ طور پر بہار کو لوٹا لیکن بختیار پو ران کے ہی نام پر رکھ دیا گیا۔

بہار کے اکبر پور کے ساتھ ساتھ قریب 100 جگہوں کے نام بدلے گئے۔ سی ایم یوگی نے اچھا قدم اٹھایا ہے، میں مطالبہ کروں گا کہ بہار کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں مغل سے منسلک ناموں کو بدلا جا ئے۔ ادھر جے ڈی یو نے بی جے پی کے رہنما کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ گری راج سنگھ کو تاریخ پڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر وہ تاریخ پڑھ لیتے تو بختیار پور کا نام تبدیل کرنے کی بات نہیں کرتے۔ سنگھ کے پاس اپنا کوئی ووٹ نہیں ہے۔ وہیں آر جے ڈی نے کہا کہ گری راج سنگھ انگریزوں کے نوکر اور ناتھورام گوڈسے کی اولاد ہیں۔ پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے، یہ گنگا جمنی تہذیب ہے۔ انتخابات آنے والے ہیں اس لئے ایسا بیان دیا جا رہا ہے کیونکہ رام مندر تو ان سے بنا نہیں، رام مندر کے لئے کتنے لوگوں کی جان گئی، ان لوگوں نے فرقہ وارانہ فسادات کرائے۔ 


Share: